< السورة السابقة | فهرس السور | السورة التالية >



حدد حجم خط الآيات
()


بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ لَآ أُقْسِمُ بِيَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۝١

نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

وَلَآ أُقْسِمُ بِٱلنَّفْسِ ٱللَّوَّامَةِ ۝٢

اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی

أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَٰنُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُۥ ۝۳

کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟

بَلَىٰ قَٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّىَ بَنَانَهُۥ ۝٤

ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں

بَلْ يُرِيدُ ٱلْإِنسَٰنُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُۥ ۝٥

مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بد اعمالیاں کرتا رہے

يَسْـَٔلُ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلْقِيَٰمَةِ ۝٦

پوچھتا ہے "آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن؟"

فَإِذَا بَرِقَ ٱلْبَصَرُ ۝۷

پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے

وَخَسَفَ ٱلْقَمَرُ ۝۸

اور چاند بے نور ہو جائیگا

وَجُمِعَ ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ ۝۹

اور چاند سورج ملا کر ایک کر دیے جائیں گے

يَقُولُ ٱلْإِنسَٰنُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ ٱلْمَفَرُّ ۝١۰

اُس وقت یہی انسان کہے گا "کہاں بھاگ کر جاؤں؟"

كَلَّا لَا وَزَرَ ۝١١

ہرگز نہیں، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی

إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمُسْتَقَرُّ ۝١٢

اُس روز تیرے رب ہی کے سامنے جا کر ٹھیرنا ہوگا

يُنَبَّؤُا۟ ٱلْإِنسَٰنُ يَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ۝١۳

اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا

بَلِ ٱلْإِنسَٰنُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ بَصِيرَةٌۭ ۝١٤

بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے

وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُۥ ۝١٥

چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے

لَا تُحَرِّكْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ ۝١٦

اے نبیؐ، اِس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو

إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْءَانَهُۥ ۝١۷

اِس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے

فَإِذَا قَرَأْنَٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْءَانَهُۥ ۝١۸

لہٰذا جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں اُس وقت تم اِس کی قرات کو غور سے سنتے رہو

ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ ۝١۹

پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے

كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ ۝٢۰

ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو

وَتَذَرُونَ ٱلْءَاخِرَةَ ۝٢١

اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو

وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ نَّاضِرَةٌ ۝٢٢

اُس روز کچھ چہرے تر و تازہ ہونگے

إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌۭ ۝٢۳

اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے

وَوُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۭ ۝٢٤

اور کچھ چہرے اداس ہوں گے

تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌۭ ۝٢٥

اور سمجھ رہے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ کمر توڑ برتاؤ ہونے والا ہے

كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِىَ ۝٢٦

ہرگز نہیں، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی

وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍۢ ۝٢۷

اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا

وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلْفِرَاقُ ۝٢۸

اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے

وَٱلْتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِ ۝٢۹

اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی

إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمَسَاقُ ۝۳۰

وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا

فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ۝۳١

مگر اُس نے نہ سچ مانا، اور نہ نماز پڑھی

وَلَٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ۝۳٢

بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا

ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ يَتَمَطَّىٰٓ ۝۳۳

پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا

أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ۝۳٤

یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے

ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰٓ ۝۳٥

ہاں یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے

أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَٰنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى ۝۳٦

کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟

أَلَمْ يَكُ نُطْفَةًۭ مِّن مَّنِىٍّۢ يُمْنَىٰ ۝۳۷

کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے؟

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةًۭ فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ۝۳۸

پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے

فَجَعَلَ مِنْهُ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ ۝۳۹

پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں

أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْۦِىَ ٱلْمَوْتَىٰ ۝٤۰

کیا وہ اِس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر زندہ کر دے؟